امریکی میڈیا کے مطابق بیجنگ پہنچنے پر چینی نائب صدر ہان ژینگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر چین میں تعینات امریکی سفیر، امریکا میں چینی سفیر اور چین کے ایگزیکٹو نائب وزیر خارجہ ما ژاؤشو بھی موجود تھے۔
صدر ٹرمپ کے استقبال کے لیے تقریباً 300 چینی نوجوان بھی موجود تھے، جنہوں نے امریکی اور چینی پرچم اٹھا رکھے تھے۔
ٹرمپ کے ہمراہ ان کے خصوصی طیارے میں ان کے بیٹے ایرک ٹرمپ، بہو لارا ٹرمپ اور معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک بھی شامل تھے۔
چینی میڈیا کے مطابق اپنے دورۂ چین کے دوران امریکی صدر، چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کریں گے۔
بیجنگ روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ چینی صدر سے ایران جنگ سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چین کو امریکی منڈیوں کے لیے مزید کھولنے پر بھی زور دیں گے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاک چائنا انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی چین میں چار اہم ملاقاتیں طے ہیں جبکہ شی جن پنگ سے ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں اہم اور ٹھوس فیصلے متوقع ہیں، جبکہ امریکا ٹیرف سے متعلق معاملات بھی زیر بحث لا سکتا ہے۔
مشاہد حسین سید کے مطابق چین کی بنیادی ترجیح معیشت ہے، تاہم اس کے پاس بھی کئی اہم سفارتی اور اقتصادی آپشنز موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین خطے میں کشیدگی میں کمی چاہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ایران جنگ سے نکلنے کے خواہاں ہیں جبکہ چین اور پاکستان دونوں جنگ کے مکمل خاتمے کی بات کر رہے ہیں، صرف سیز فائر کی نہیں۔ ان کے مطابق امید ہے کہ دورۂ چین کے بعد ایران اور امریکا سے متعلق معاملات میں مثبت پیشرفت سامنے آئے گی۔
مشاہد حسین سید نے کہا کہ امریکا اس وقت مختلف جنگوں میں الجھا ہوا ہے اور اس کی معاشی صورتحال بھی دباؤ کا شکار ہے، جبکہ امریکا اور چین کے مشترکہ مفادات اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں، اسی لیے یہ دورہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔






